ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل :بلدیہ میں لاکھوں روپیوں کی گھپلہ بازی : ایک معمولی عملہ پر بڑی ذمہ داری عوامی سطح پر گہراتا شک

بھٹکل :بلدیہ میں لاکھوں روپیوں کی گھپلہ بازی : ایک معمولی عملہ پر بڑی ذمہ داری عوامی سطح پر گہراتا شک

Thu, 29 Dec 2016 22:07:00    S.O. News Service

بھٹکل:29/ڈسمبر  (ایس او نیوز)بھٹکل بلدیہ دفتر میں ڈی کلاس کے ایک عملہ کی  مکاری  نے7لاکھ روپیوں سے زائد گھپلہ کئے جانے کے متعلق جمعرات کو منعقد ہوئی بلدیہ کے عام اجلاس میں بڑی گہما گہمی رہی ، اور متعلقہ عملہ کو معطل کئے جانےکا  میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا۔

میٹنگ کے دوران بلدیہ ممبر عبدالرؤوف نائطے نے معاملے کوپیش کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ اکتوبر سے ابھی تک کتنی رقم جمع کی گئی ہے، اس سلسلے میں اعلیٰ افسران کیا کارروائی کی ہے، اس  تعلق سے تفصیلات میٹنگ میں پیش کرنےکا مطالبہ کیا۔ جس پر ممبر محی الطاف کھروری، فیاض ملا وغیرہ نے بھی کھل کر حمایت کی۔ عبدالرؤوف نائطے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے الزام لگایا کہ متعلقہ عملہ کی وجہ سے بلدیہ عملے  کی ایک خاتون نے ذاتی وجوہات کا بہانہ بنا کر استعفیٰ دیاہے۔ ممبر وینکٹیش نائک نے بلدیہ چیف آفیسرکے رشوت خوری معاملے میں نیا موڑ لاتے ہوئے کہاکہ ڈی گروپ کا عملہ جب گھپلہ بازی میں مصروف تھا تو بلدیہ چیف آفیسر نے اس کی جانچ کرنے کے لئے آگے بڑھے تھے، انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر ایسا کہا جارہا ہے کہ تفتیش کرنے کی بنا پراسی عملے کی کارستانی  سے بلدیہ چیف آفیسرکو اے سی بی کے جال میں پھنسایا گیا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں تفصیلی جانکاری دینے کا مطالبہ کیا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ میونپسپالٹی کا یہ اہلکار گذشتہ 4 دنوں سے غیر حاضر ہے ۔

میٹنگ میں بلدیہ صدر محمد صادق مٹا نے کہا کہ دیپک شٹی نے بدھ کو 2لاکھ 40ہزار روپئے بلدیہ میں جمع کرائے ہیں، بقیہ رقم کے لئے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو معطل کریں گے انہوں نے بتایا کہ معطل کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ عملے کے خلاف پولس تھانے میں کیس بھی درج کریں گے۔ میٹنگ نائب صدر اشفاق کے ایم ، اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن محمد قیصر محتشم ،نائب صدر اشفاق کے ایم،  انجنئیر آر پی نایک، الطاف کھروری، عبدالرئوف نائطے، فیاض مُلا وغیرہ موجود تھے۔

بھٹکل بلدیہ الزامات کے گھیرے میں

پانی سپلائی، نگرانی ، انتظامات ، اندرونی نالیوں کے جوڑنے اور نگرانی کرنے سمیت مختلف کاموں کے لئے عوام سے رقم جمع کی جاتی ہے۔ لیکن عوامی سطح پرجمع کی گئی رقم سرکاری کھاتے میں جمع نہیں ہوتی،، اس بات کو لے کر گذشتہ 8-10سالوں سے بلدیہ الزامات کے گھیرے میں ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بلدیہ کی رسید بک کو جعلی سطح پر بے تحاشہ استعمال کئے جانے کی بات کہی جارہی ہے۔ عوام کے کروڑوں روپئے غیر قانونی طورپر ہضم کئے گئے ہیں۔ سرکاری خزانہ کو بہت بڑے پیمانےپر نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عوام اس موقع پر الزام عائد کررہے ہیں کہ طویل عرصے سے بلدیہ میں جب یہ سب کچھ ہورہاتھا تو افسران اور عوامی نمائندوں نے اس تعلق سےبات کیوں نہیں چھیڑی ، کوئی کارروائی کیوں نہیں کی، اور ایک ڈی گروپ کے عملے کو رقم کے سلسلے میں استعمال کئے جانے پر بھی کئی ایک نے شک کا اظہار کیا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہر سال حساب کتاب کو ایڈیٹ کیا جاتا ہے، لیکن کہیں بھی اس غیر قانونی کام کی اطلاع نہیں ملی ہے تو اندازا کیا جاسکتاہے کہ شاطر دماغوں نے کتنی چالاکی کے ساتھ عوام اور سرکار کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔عوامی سطح پر جو باتیں چل رہی  ہیں اگر اس پرتوجہ دیں تو خود کی ناک  کٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ بلدیہ چیف آفیسر اے سی بی کے جال میں پھنسنےکے بعد ایک ایک کرکے اندرونی راز فاش ہورہے ہیں، نہیں معلوم بلدیہ دفتر آئندہ دنوں میں اور کن کن کے اور کیا کیا راز اگلے گی۔ اس سلسلے میں ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے انجنئیر آر پی نایک نے بتایا کہ جمعرات کو منعقدہ میٹنگ  کی تفصیلات ڈی سی کو ارسال کی جائیں گی۔اس درمیان خبر ملی ہے کہ بدھ کو رشوت خوری معاملے میں  اے سی بی کے ہاتھوں گرفتار ہو نے والے بلدیہ چیف آفیسر رمیش کو ضلعی عدالت کی طرف سے ضمانت پر رہائی ہوئی ہے۔ 


Share: